Almighty as we know

اس جہاں کے آغاز سے لوگ اپنے خالق کو مختلف ناموں سے پکارتے اور یاد کرتے رہے ہیں. ابراہیمی مذاہب میں تاریخی لحاظ سے خدا کو یاد کرنے کے طریقوں میں بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے. اسلام میں خدا کے لیے اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے،  یہودی صحیفوں میں خدا کیلئے یہواہ (YHWH)
کا لفظ استعمال ہوا ہے.
یہ لفظ یہواہ کوئی ایک لفظ نہیں بلکہ یہ عبرانی حروفِ تہجی کے چار حروف کو اکٹھا کر کے لکھا گیا ہے. اس کی مثال ایسے لی جا سکتی ہے جیسے قرآن میں کچھ مقامات پر ایسے الفاظ ہیں جس میں ہر حرف کو جدا جدا پکارا جاتا ہے مثال کے طور پر ‘یس’.
ان چار حروف کے مجموعے کے استعمال کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہودیوں نے بے ادبی کے ڈر سے خدا کا نام لینا چھوڑ دیا تھا اور جہاں کہیں بھی خدا کا ذکر کرنا ہوتا، وہاں ان حروف کو ملا کر لکھ دیا جاتا.

لفظ اللہ کو اگر تاریخ کی کتابوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کنعان کے لوگ اور ابراہیم، اسحاق اور یعقوب بھی اپنے خدا کو ال کے نام سے پکارتے تھے.
(semitic) آل سامی
زبان کا لفظ ہے اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے ملتے جلتے نام تمام سامی (عربی، سریانی، عبرانی سامی زبان میں سے ہیں) زبانوں میں ہیں. جیسے
Allah عربی میں اللہ
Allahaسریانی میں الاہا
Eloah عبرانی میں الواہ
بنی اسرائیل کی تاریخ میں حضرت یعقوب سے منسوب ایک واقعہ ملتا ہے کہ حضرت یعقوب نے لوز کے مقام پر قیام کیا تو خواب میں انہوں نے خدا کو دیکھا اور خدا سے انہوں نے کلام بھی کیا.  جب وہ جاگے تو انہوں نے اس جگہ کا نام بیت ال رکھا.
بعض محققین کے مطابق یہ موجودہ شہر بیتین ہے جو فلسطین میں واقع ہے.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s