چار نئے عناصر کی دریافت اور ان کے نام

سائنس کے طالب علم یقیناً واقف ہوں گے کہ حال ہی میں چار نئے دریافت شدہ عناصر کے نام تجویز کیے گیے ہیں. گو کہ فی الحال یہ نام پانچ ماہ کے لیے آزمائشی بنیاد پر رکھیں گئے ہیں، مگر اس بات کا قوی امکان ہے کہ نومبر 2016 میں ختم ہونے والے آزمائشی دور کے اختتام پر ان ناموں کو رسمی طور پر عناصر کے ٹیبل (پیراڈک ٹیبل) میں شامل کر لیا جائے گا.

ان عناصر کو پہلے ان کے ایٹمی نمبر سے جانا جاتا تھا.  اور انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری کے ایٹمی نمبر کی بنیاد پر Periodic-Table-of-the-Elements-four-now-entries

تشکیل دیے گئے طریقے کے مطابق ان عناصر کو عارضی طور پر نام دیے گئے تھے. عارضی ناموں کو اس وقت تک استعمال کیا جاتا ہے، جب تک کہ ان عناصر کی دریافت اور وجود کے پختہ ثبوت نہ مل جائیں. جن سائنسدانوں نے نئے عنصر کی دریافت کا دعوٰی کیا ہوتا ہے،  وہ اس عرصے میں انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری کو اپنی دریافت کے تجرباتی ثبوت فراہم کرتے ہیں اور اگر مہیا کیے گئے ثبوت تسلی بخش ہوں تو ان اس نئے دریافت شدہ عنصر کو باقاعدہ نام دے کر عناصر کے ٹیبل کا حصہ بنا لیا جاتا ہے.

ان چار نئے عناصر کا ایٹمی نمبر 113،  115،  117،  118ہیں . اس حساب سے پیراڈک ٹیبل میں ان کی جگہ ساتویں افقی قطار میں ہے .انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری کے چند اصول ہیں،  جن کی بنیاد پر نئے عناصر کے نام تجویز کیے جاتے. ان کے مطابق نام کسی

پورانیک کردار یا تصور بشمول کوئی فلکیاتی اشیاء پر مبنی ہو سکتا ہے

معدنیات اور ان جیسی اور اشیاء پر مبنی ہو سکتا ہے

جگہ یا جغرافیائی خطے کا نام ہو سکتا ہے

سائنسدان کا نام ہو سکتا ہے

عنصر کی خصوصیات پر مبنی ہو سکتا ہے

ان اصولوں کی بنیاد پر ایٹمی نمبر 113 والے عنصر کا نام. “نی ہون”  رکھا گیا. نی ہون جاپانی زبان میں جاپان کا نام ہے. اس عنصر کو جاپان کے ادارے (RIKEN) نیشنل سنٹر کے سائنسدانوں نے دریافت کیا.  اس عنصر کی دریافت کا دعوٰی روس کے شہر دوبنیا میں موجود جوائنٹ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ نے بھی کیا تھا مگر انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری نے اس عنصر کی دریافت کا اعزاز جاپانی سائنسدانوں کو بخشا

دوسرے اور تیسرے عنصر جن کا ایٹمی نمبر 115 اور 117  ہے،  ان کا نام موسکوویم اور ٹینیسینی رکھا گیا ہے. ان کی دریافت جوائنٹ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ،  دوبنیا،  روس اور اوک رج نیشنل لیبارٹری، ٹینیسی،  امریکہ میں موجود سائنسدانوں کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے.  اسی بنیاد پر ان کے نام موسکوویم جو کے ماسکو کی مناسبت سے رکھا گیا، اور ٹینیسینی جو کہ ٹینیسی سے تعلق ظاہر کرتا ہے

چوتھے اور آخری عنصر کی دریافت جوائنٹ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ،  دوبنیا،  روس اور لیورمور نیشنل لیبارٹری، کیلیفورنیا، امریکہ کے محققین نے کی.  اس کا ایٹمی نمبر 118 ہے. اس کا نام روسی ماہر طبیعیات یوری اوگانسیان کے نام کی مناسبت سے “اوگانیسون” رکھا گیا ہے

maxresdefault

ان عناصر کو بہت بھاری عناصر کے زمرہ میں رکھا جاتا ہے.  رترفورڈیم (ایٹمی نمبر 104) سے بھاری تمام عناصر کو بہت بھاری یعنی سپر ہیوی عنصر کہا جاتا ہے.  یہ عنصر قدرتی ماحول میں نہیں پائے جاتے،  کیونکہ یہ تابکار کشی کے تحت اپنے آپ کو ہلکے عناصر میں تبدیل کر لیتے ہیں. درحقیقت ایٹمی نمبر کسی بھی عنصر کے نیوکلس میں موجود پروٹون کو ظاہر کرتے ہیں اور اتنی زیادہ تعداد میں پروٹون کی موجودگی ایٹم کو غیر مستحکم کر دیتی ہے،  جس کی وجہ سے یہ بھاری عناصر تابکارکشی کے ذریعے اپنے آپ کو ہلکے عناصر میں تبدیل کر لیتے ہیں. اس بنیاد پر ان عناصر کو مصنوعی یا ساختہ دستِ بشر بھی کہا جاتا ہے. قدرتی طور پر پایا جانے والا بھاری ترین اور مستحکم عنصر یورینیم ہے (ایٹمی نمبر 92).

ایسے عناصر کو بنانے کا اولین مقصد تحقیقی ہے،  کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ہمارے سیارے یعنی زمین کے ماحول میں یہ  قدرتی طور پر پنپ نہیں سکتے مگر کائنات میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں ایسے عناصر کی موجودگی ممکن ہے اور اگر ہمیں کائنات کے مخفی رازوں کو پانا ہے تو ضروری ہے کہ ہم وہاں کے ماحول سے آشنا ہوں.  اس کا ایک حل یہ ہے کہ وہاں موجود ماحول کو آپ مصنوعی طریقے سے زمین پر پیدا کریں.  ان بھاری عناصر کی دریافت اور ان پر تحقیق اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے.

اچھی خبر یہ ہے کہ کہ اب ہمارے پیراڈک ٹیبل کی ساتویں افقی قطار مکمل ہے. ہمارے پاکستانی بک بورڈ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی  کیمیا کی کتابوں کی تجدید شدہ اشاعت شائع کر دیں. محققین آجکل ایسے عناصر پر کام کر رہے ہیں،  جن کا ایٹمی نمبر 118 سے زیادہ بھی ہو گا اور یہ قدرے مستحکم بھی ہوں گے. اس نظریے کو (island of stability) بھی کہا جاتا ہے. اس کی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ غیر مستحکم عناصر کے سمندر میں ایک ایسا خطہ یا جزیرہ ہے جہاں بہت بھاری عنصر بھی مستحکم ہوں گے. مراد یہ ہے کہ اس جزیرے پر موجود عناصر کی ہاف لائف سمندر میں موجود عناصر سے زیادہ ہو گی (جزیرہ اور سمندر کو لغوی معنی میں نہ لیا جائے بلکہ یہ صرف وضاحت کے لیے ہے)

یقیناً ایسے عناصر کی دریافت تحقیق کے نئے باب کھولے گی اور انسانی زندگی کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرے گی

 

References
International Union of pure and applied chemistry (www.iupac.org)
Lawrence Livermere national laboratory  (www.llnl.gov)
Joint institute for nuclear research,  Dubna,  Russia (www.jinr.ru)
Oak Ridge national laboratory,  Tennessee (www.ornl.gov)
RIKEN, Japan (www.riken.jp)

نئے دریافت شدہ عناصر کے نام انگریزی میں

 

  1. Nihonium (113),  Nh
    2. Moscovium (115), Mc
    3. Tennessine (117), Ts
    4. Oganesson (118), Og

This blog was also published on ( http://blogs.dunyanews.tv/urdu/?p=933 )

Muslim Miniature Artist / مسلم نقاش اور نگارگاری

انسانی فطرت ہے کہ ہم اگر کسی مشہور شخص کے حوالے سے کوئی چیز دیکھتے ہیں تو شائبہ ہے کہ ہمارے اندر جانبداری کا پہلو آ جائے.  اس کے نتیجے میں ہو سکتا ہے کہ ہم اس کی بے جا تعریف کریں یا غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنائیں. ہماری رائے کے متاثر ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، اس حوالے سے اسلامی ادوار کے نگارگاروں نے کوشش کی کہ وہ اپنی بنائی تصاویر پر اپنی کوئی نشانی نہ چھوڑیں.
مسلمان مصوروں نے تصویر کی منظر کشی کا جو طریقہ اپنایا وہ روائتی طریقوں سے مختلف تھا. انہوں نے نگار گاری کے فن کو دوام بخشا، گو کہ نگار گاری کا فن مغربی یورپ اور باظنتینی مصوروں نے بھی اپنایا مگر آج جو زیادہ تعداد میں نگار گاری کے نسخے موجود ہیں وہ فارس، منگول اور عثمانیہ خلافت کے دور کے مصوروں کے ہیں شاید اسی وجہ سے نگارگاری کو اسلامی فن مصوری سے منسوب کیا جاتا ہے.
عثمانی دور کے مصور اس چیز کا اہتمام کرتے تھے کہ ان کے فن پاروں میں انفرادیت کا عنصر نہ ہو اسی چیز کے پیش نظر وہ اپنی تصاویر پر دستخط کرنے سے بھی اجتناب برتتے تھے. دستخط اور نشانی نہ چھوڑنے کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس دور کے بیشتر مصور حکمرانوں کے دربار سے منسلک تھے اور مصور شاہی نگارخانے میں کسی ماہر نقاش کے زیر سایہ کام کیا کرتے تھے. اکثر یہ لوگ شاہی دربار سے متعلق واقعات کو اپنی تصاویر میں پیش کیا کرتے. ان نگارخانوں کو ایک ادارے کی طرح چلایا جاتا، اس میں مختلف شعبہ جات تھے اور ہر شعبہ کا ایک سربراہ تھا. ہر شعبہ میں کام کرنے والے مصور اپنے حصے کا کام کرتے اور پھر یہ تصویر دوسرے شعبہ کو منتقل کر دی جاتی.
مثال کے طور پر آغاز میں ایک نقاش بنیادی خاکہ بناتا، پھر رنگ کا ماہر رنگ بناتا اور رنگ بھرتا، خطاطی کا ماہر ضرورت کے مطابق خطاطی کرتا، خاص نسخوں میں ماہر تذہیب خوبصورت رنگوں سے تذہیب کا عمل کرتے، بعض خاص نسخوں پر تذہیب کے لیے سونے کا استعمال کیا جاتا،

image

image

حاشیہ کی سجاوٹ کے لیے الگ سے مصور ہوتے، اور بہت سے ایسے نگارگاری کے نسخے آپ دیکھ سکتے ہیں جس میں حاشیہ کی تزین و آرائش پر خاص توجہ دی گئی ہے، اس میں رنگ، خطاطی، تذہیب اور گرہ سازی کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملے گا.

image

حتمی مراحل میں نگارگاری کے ان نسخوں کو کتابی شکل دینے کیلئے جلد سازی کی جاتی تھی

image

نگارگاری کے ان فن پاروں کی تکمیل بہت سے ماہرین کی محنت کا نتیجہ تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ اسلامی نگارگار ان فن پاروں پر اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتے تھے کیونکہ یہ فرد واحد کی کوشش نہیں بلکہ نگارخانہ میں موجود بہت سے مصوروں کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ تھا.

اس نظریے کو ترکی کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار اورہان پاموک نے اپنی کتاب ‘میرا نام سرخ’ میں بھی بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ اپنے فن پاروں پر دستخط نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مسلمان مصوروں کے نزدیک تصویر کو خدا کے نقطہ نظر سے بنانا مقصود تھا نا کہ مصور اپنا دیکھنے کا انداز بیان کرے، اس کے پس پشت یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسلام میں جاندار اشیاء کی نقش و نگاری کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تھی. ان کے نزدیک تصویر بنانے کا مقصد اس میں پنہاں معانی کو لوگوں تک پہنچانا تھا اور مناظر و اشکال محض ظاہری ہیں.
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں کامیاب مصور اور کامل تصویر اس کو گردانہ جاتا تھا جس کو دیکھ کر دیکھنے والا مصور کو پہچان نہ سکے. آج جو ہمارے پاس نسخے موجود ہیں ان کے بنانے والوں کی پہچان تصویر کے موضوع اور پیش کئیے دور کو دیکھ کر لگائی جا سکتی ہے، مگر ہم وثوق سے نہیں کہ سکتے کے بنیادی خاکہ کس نے بنایا، رنگ کس نے بھرے اور تذہیب یا کاغذ کی ابرو کا کام کس نے کیا.

Miniature Art == نگارگاری

image

image

Almighty as we know

اس جہاں کے آغاز سے لوگ اپنے خالق کو مختلف ناموں سے پکارتے اور یاد کرتے رہے ہیں. ابراہیمی مذاہب میں تاریخی لحاظ سے خدا کو یاد کرنے کے طریقوں میں بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے. اسلام میں خدا کے لیے اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے،  یہودی صحیفوں میں خدا کیلئے یہواہ (YHWH)
کا لفظ استعمال ہوا ہے.
یہ لفظ یہواہ کوئی ایک لفظ نہیں بلکہ یہ عبرانی حروفِ تہجی کے چار حروف کو اکٹھا کر کے لکھا گیا ہے. اس کی مثال ایسے لی جا سکتی ہے جیسے قرآن میں کچھ مقامات پر ایسے الفاظ ہیں جس میں ہر حرف کو جدا جدا پکارا جاتا ہے مثال کے طور پر ‘یس’.
ان چار حروف کے مجموعے کے استعمال کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہودیوں نے بے ادبی کے ڈر سے خدا کا نام لینا چھوڑ دیا تھا اور جہاں کہیں بھی خدا کا ذکر کرنا ہوتا، وہاں ان حروف کو ملا کر لکھ دیا جاتا.

لفظ اللہ کو اگر تاریخ کی کتابوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کنعان کے لوگ اور ابراہیم، اسحاق اور یعقوب بھی اپنے خدا کو ال کے نام سے پکارتے تھے.
(semitic) آل سامی
زبان کا لفظ ہے اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے ملتے جلتے نام تمام سامی (عربی، سریانی، عبرانی سامی زبان میں سے ہیں) زبانوں میں ہیں. جیسے
Allah عربی میں اللہ
Allahaسریانی میں الاہا
Eloah عبرانی میں الواہ
بنی اسرائیل کی تاریخ میں حضرت یعقوب سے منسوب ایک واقعہ ملتا ہے کہ حضرت یعقوب نے لوز کے مقام پر قیام کیا تو خواب میں انہوں نے خدا کو دیکھا اور خدا سے انہوں نے کلام بھی کیا.  جب وہ جاگے تو انہوں نے اس جگہ کا نام بیت ال رکھا.
بعض محققین کے مطابق یہ موجودہ شہر بیتین ہے جو فلسطین میں واقع ہے.

Baal – God of Canaanites

بعل اور یام بہت سے خداؤں میں سے دو خدا تھے،  جن پر کنعان کے رہنے والے یقین رکھتے تھے.  بعل طوفان اور ذرخیزی یعنی نمو یا جسے انگریزی میں فرٹیلیٹی کہتے ہیں اس کا خدا تھا. بعل ان کے بڑے اور طاقتور خداؤں میں تھا. وہ اس کی پوجا کرتے تھے، اس پر چڑھاوے چڑھانے کے لیے مذبح خانے بنا رکھے تھے اور اس کی ناراضگی انہیں قطعی منظور نہ تھی.
بعل اور یام کے درمیان ہونے والی لڑائی کا ذکر بہت سے مذہبی ادب میں ملتا ہے.  دونوں کے درمیان اس جنگ کا اختتام بعل کی فتح پر ہوتا ہے.
بعل کا ذکر تینوں ابراہیمی مذاہب میں ہے.  قرآن میں اس کا  ذکر سورۃ الصفات آیت 125 میں ہے.

1-Fiction 3-Facts /// 3-Fiction 1-Fact

1-Fiction 3-Facts

وہ گرما کا رمضان تھا،  دن انتہائی لمبے تھے اور آرمیاء کی سوچ کے گھوڑے بھی بہت دور تک بھاگ رہے تھے. پچھلے کئی سال اس نے مشکل حالات میں گذارے تھے،  اور ابھی بھی اس کے حالات کوئی بہت اچھے نہ تھے. افطار کے بعد وہ اپنے گھر کے قریب جنگل میں نکل جاتا،  اور روز اس جنگل میں موجود جھیل پر بنے لکڑی کے چبوترے پر جا بیٹھتا. وہ اپنے گذرے ہوے لمحات کو یاد کرتا،  اپنے حال کا جائزہ لیتا اور مستقبل کے منصوبے بناتا.

3-Fiction 1-Fact

وہ گرما کا رمضان تھا، آرمیاء افطار کے بعد گھر سے نکل جاتا اور پھر اپنے ارد گرد کا مشاہدہ کرتا، اپنے آپ سے باتیں کرتا، اپنے ملکی حالات کے بارے میں سوچتا اور بہت سے منصوبے بناتا جن سے وہ اپنے ملک کے عام لوگوں کے حالات میں کچھ تبدیلی لا سکتا ہے. اس نے اس چہل قدمی کو، اپنے آپ سے باتیں کرنے کو، اپنے ذہن کے بند دریچوں کو کھولنے کا ذریعہ بنا لیا.
اس خودکلامی نے اسے اپنے خیالات کو ایک دھارا میں ڈھالنے کا موقع فراہم کیا.

Human Being & Universe

یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا انسان کی شکل بندر سے مشابہت رکھتی تھی اور پھر وہ ارتقاء کی منزلیں طے کرتا ہوا اپنی موجودہ حالت میں پہنچا،  میں اس پر تو یقین نہیں رکھتا،  مگر میری دلچسپی اس سوال میں نہیں کہ انسان کب اور کیسے اس دنیا میں آیا بلکہ اس میں ہے کہ یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں یہ کیسے معرض وجود میں آئی. جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس کائنات میں زمین کی مثال سمندر میں اک قطرے کی سی ہے،  تو انسان یہ سوال پوچھتا ہے کہ آخر اتنی بڑی کائنات کی تخلیق کا مقصد کیا ہے اور اس میں انسان جو اس زمین میں بستے ہیں ان کی کیا حیثیت و مقام ہے.
کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ کائنات میں ہماری زمین جیسے اور بھی سیارہ ہوں،  جہاں ہمارے جیسے انسان بستے ہوں.  کیا جو تصور متوازی جہاں کا جدید سائنس نے دیا ہے اس کی کوئی حقیقت ہے،  کیا ممکن ہے کہ خدا نے ایسے بہت سے متوازی جہاں بنائے ہوں جن کو موجودہ آلات اور تیکنیک سے ہم نہ دیکھ پاتے ہوں.
دیکھا جائے تو انسان صرف ایک حد تک کائنات کو ابھی دیکھ پایا ہے، جس کو سائنس میں (visible universe) کہتے ہیں.
  ہمیں نہیں معلوم کہ اس سے آگے کیا ہے اور کتنے جہاں ہیں.

میرے نزدیک انسان کی تخلیق کے بہت سے مقاصد میں سے ایک مقصد خدا تعالٰی کی بکھری ہوئی نعمتوں کو تلاش کرنا ہے،  خدا نے جو یہ کائنات بنائی ہے اس میں ہر سو پھیلے راز کو پانے کی جستجو کرنا ہے.

Journalism & Flattering – Social Evil

Awad ud din Anwari was a Persian language poet, he was born in modern day Turkmenistan. His famous work is ‘Tears of Khorasan’.

He is known for his panegyric poetry, it is said that he once told Sultan Sanjar, that if he appoint him his court poet, he will never be bored. Anwari was so skilled in eulogies and was confident of his laudatory poetry required to please Sultan. He once said to Sultan

“To sing praise and laud for someone else but you Is like performing the ablutions with sand at seashore”

Unfortunately majority of our Pakistani journalist are doing the same thing, few are writing laudatory essays on the performance of our politicians and few are writing panegyric for military. You can feel that in their programmes, very few gives the impression of neutral opinion.  Some are unduly praising the work of military and other are blindly defending the politicians.
Anwari once said to Sultan after being offered stale vinegar

“I asked for wine and you gave me stale vinegar
Such that, should I drink it, I should rise up at the resurrection like pickled meat”.

Under all conditions they will defend their worldly Gods.